کچھ عرصہ قبل محترم حمزہ عباسی صاحب نے آج نیوز چینل پر رمضان کی
ٹراسمیشن کے دوران ایک سوال اٹھایا، وہ جاننا چاہتے تھے کہ یہ جو بات مشہور ہے کہ "اسلام میں مرتد کی سزا قتل ہے "
کہاں تک درست ہے ۔ اس حوالے سے کتب اسلامیہ کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ مختصر مناسب
سی تحریر ملی جسے یہاں پیش کیا جارہا ہے۔
اسلام "میرے
خیال میں" کا نام نہیں ہے۔ بلکہ
قرآن کا حکم نبی کریم ﷺ کی تشریح
،صحابہ رضی اللہ عنہم کا عمل اور تابعین ،فقھاء کا اجماع کے مجموعے
کا نام ہے۔ جب بھی شرعی مسئلہ معلوم کرنا ہو تو ان تمام بنیادوں پر برابر نظر
رکھنی ہوتی ہے تب جاکر شرعی مسئلہ حل کیا جاتا ہے۔ موجودہ دور کے نام نہاد، بے سندسکالرز
، ٹی وی پر بیٹھ کر بغیر قرآن سنت کی دلیل
کے اپنی رائے بیان کرتے ہیں کہ " میری تحقیق، میری رائے، میری سمجھ" کے
مطابق اسلام میں مرتد کی سزا قتل نہیں ہے یا یوں کہتے ہیں کہ وہ حکم آپ ﷺ کے زمانے کے ساتھ خاص تھا۔ یہ خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور لوگوں کو بھی گمراہ
کرتے ہیں۔
مندرجہ ذیل مواد کو پڑھنے سے قاری کو دو فائدے حاصل ہونگے۔
نمبر ایک :اسلام میں مرتد کی سزا کا حکم کیا ہے اور اس حکم
کے دلائل کیا ہیں۔
یہ پڑھنے کے بعد امید کرتا ہوں لوگوں کا اندازہ ہو جائیگا کہ علماء کتنے بڑے محسن ہیں جنہوں نے ہر قسم کی تکلیف، طعنے برداشت کئے لیکن دین کی تعلیمات کو تروتازہ رکھا ، اگر یہ لوگ یہ ذمہ داری نہ نبھاتے تو آج اسلام کا بھی وہ ہی حال ہوتا جو دیگر منسوخ مذاہب کا ہے۔














کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں